آوارہ گرد کی ڈائری

یہ 1996ء کی بات ہے ۔عمر کا سولہواں سال تھا ۔ پہلے سات برس بیماری میں گزر گئے اور اگلے نو مدرسے میں ۔ قرآن مجید حفظ کیا ، درس نظامی بھی چار سال پڑھا ۔یکایک طبیعت میں ابال آیا اور باقی ماندہ چارسال کی تعلیم چھوڑ کر آوارہ گردبن گیا ۔ امی ابو نے بہت سمجھایا لیکن چڑھتی جوانی نے کسی کی نہ مانی ۔ صبح سویرے دوستوں کے ساتھ نکل جاتا اور رات گئے گھر لوٹنا معمول بنالیا۔
آوارہ گردی جوبن پر تھی کہ لاہور سے چاچو انجم سکنین احمد رانا چھٹیاں گزارنے گاؤں آئے ۔ انہوں نے روٹین دیکھی تو پیار سے سمجھایا کہ مدرسے کی تعلیم سے اکتا گئے ہو تو میٹرک ہی کرلو ۔ میرا جواب تھا ،میں نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا ، میٹرک کیسے کرسکتاہوں ؟ انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا ’’کوشش کرنے میں کیا حرج ہے

چاچو کے کہنے پر داخلہ بھجوادیا ۔ امتحانات میں چار ماہ باقی تھے ۔ پریشان تھا کہ تیاری کیسے ہوگی ؟کہ ایک اور چچا محمد سلیم اختر راناکام آگئے ، وہ گورنمنٹ ہائی سکول میں پڑھاتے تھے، انہوں نے مجھے اسکول میں داخلہ لیے بغیر کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دلوادی ۔ اسی سکول کے سائنس ٹیچر رانا ہاشم صاحب محلے دار تھا ۔ ان کے پاس ٹیوشن پڑھنے جانے لگا۔ اس کے باوجو دامتحانات کی تیاری لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ثابت ہوئی ۔ خود سوچیں جسے اے بی سی بھی نہ آتی ہو ۔ اسے یکدم میٹرک کی تیاری میں کتنی مشکلات آئی ہوں گی۔

اساتذہ کا تعاون پاکر میں نے دن رات رٹہ لگایا اور سکینڈڈویژن میں پاس ہوگیا ۔ وہ دن ہے کہ کتاب سے ناطہ نہیں ٹوٹا ۔ اسلامیات اور اردو میں ایم اے کرچکا ہوں اور اب اسلامیات میں ایم فل کررہاہوں ۔ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ’’ جنگ ‘‘ میں ملازمت کررہا ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں اللہ کے کرم ، والدین کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اگر چاچو انجم سکنین احمد رانا مجھے نئی راہ نہ دکھاتے تو نجانے آوارہ گردی کرتے کرتے میں کن راہوں پر نکل جاتا ۔ چاچو !یو آر گریٹ ۔

حافظ محمد عرفان رانا ,ہرنولی، میانولی

 

Comments (0)
Add Comment